تیرے بندوں کی عجیب دنیا یا رب

The Way I Think

میں گاڑی میں بیٹھی سائیڈ ونڈو سکرین پرباہر لوگوں کی ہلچل نوٹ کر رہی تھی، روزہ کھلنے میں چند منٹ ہی باقی تھے کہ ایک سپیٹ بریکر پہ گاڑی آہستہ ہوئی اور اچانک دو نوجوان انتہائی بے بسی اور بے چارگی کے عالم میں ہاتھ پھلا کراور آسمان کی طرف اشارے کر کر کے کچھ افطار کے لیئے درخواست کر رہے تھے۔۔ میں نے ایک منٹ سے بھی کم یہ منظر دیکھا ہوگا کہ پاس بیٹھی میری بہن بولی،

“ہائے کاش ابھی ہمارے پاس کچھ ہوتا انکو دینے کے لیئے۔۔”

اور میں کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔پتہ نہیں انکا آسمان کی طرف بار بار دیکھنا اور کچھ کھانے کو مانگنا میرے دل پہ عجیب سا اثر کر گیا تھا ، شاہد اسکی بڑی وجہ میرا خود بھی بھوک کو اسی شدت سے محسوس کرنا تھا جیسا وہ کر ریے تھے۔۔ دینے کو تو واقعے کچھ نہیں تھا اور…

View original post 135 more words

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s