ہائے، وہ سیاہی کی بوتل

The Way I Think

Presentation2

میں کوئی چھ، سات سال کی تھی تو ایک شام میری تایا کی بیٹی جنہیں میں باجی بولتی تھی، دوکان سے سیاہی لانے کو بولا۔ ۔ اس زمانے میں اینک پین ہوا کرتے تھے جن میں نیلے یا کالے رنگ کی سیاہی بھری جاتی تھی اور سیاہی دوات یا چھوٹے پیکٹ میں آتی تھی۔۔

میں سیاہی کا پیکٹ لے کے باجی کے پاس ائی تو انھیں دوات کی شیشی والی سیاہی چاہیے تھی، پیکٹوالی نہیں۔۔

انھیں پیکٹ دیکھ کے غصہ آیا اور میرے سے پوچھا کے یہ تمہیں کس نے دیا۔۔ میں نے کہاکہ دوکاندار نے۔۔۔
انھوں نے کہا جاو یہ پیکٹ دوکان دار کے منہ پہ مار کے آَو، اور واپس کر کے سیاہی کی بوتل لے کے ٓانا۔۔۔

خوش قسمتی سے دوکاندار میرے سے کوئی تین چار سال ہی بڑا بھائی تھا۔
میں اسکی دوکان پہ گئی اور پیکٹ اس کے منہ پہ مارتے ساتھ ہی کہا کہ…

View original post 438 more words

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s