مارچ 2010 میں کچی افغان بستی کی سیر، جو کہ اب ختم ہو چکی ہے۔

The Way I Think

آج سے کوئی پانچ سال پہلے 2010 میں میرا اسلامک یونیورسٹی کے پاس آباد ایک کچی افغان بستی میں جانا ہوا,جہاں کوئی 10 سے 15 گھر آباد ہونگے۔ وہاں جا کے مجھے پتا چلا کہ یہ لوگ افغانستان سے ہجرت کر کے آئیں ہیں اور انکو جہاں تھوڑی جگہ ملی اپنے خیمے لگا کہ رہنا شروع کر دیا۔ بڑا عجیب سا تجربہ رہا میرا وہاں جا کے، لیکن شاید زندگی مجھے کچھ اور ہی سکھانا چاہتی تھی.آئیں مل کے سیکھتے ہیں وہ سب جو ہم بڑے بڑے کوٹهیوں میں رہ کر نہ سیکھ سکیں۔

مارچ 2010 میں, میں اپنی دوست کے ساتھ اسلامک یونیورسٹی کے کیفیٹیریا میں تھی کہ جب وہاں سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لیے تین،چار بچیاں میرے پاس سے چیزیں اُٹھانیں آئیں. ہم نے ان سے پوچھا کہ کہاں سے آئیں ہو تو انہوں نے بتایا کہ پاس بستی ہے وہاں سے. تو میری دوست نے کہہ کہ…

View original post 555 more words

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s