ہم اور ہمارا نظام تعلیم

AlSafaat اَلصّٰفّٰت

تعلیم کسے کہتے ہیں؟ کتاب سے پڑھ کر یاد کرنے کو؟ کچھ نئے تصورات سمجھنے کو؟ علمی بحث و مباحثہ کرنے کو؟ ڈگری کے حصول کو؟… یا پھر کچھ اور؟

تعلیم محض حقائق جاننے کا نام نہیں بلکہ یہ دراصل ہمارے ذہن کو سوچنے پر مجبور کرنے کا ایک بہانہ ہے. تعلیم کا مقصد کیرئیر بنانا نہیں بلکہ ذہن بنانا ہے. تعلیم اعتماد پیدا کرتی ہے. اعتماد امید پیدا کرتا ہے اور یہی امید معاشرے میں امن و سلامتی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے. تعلیم وہ خزانہ ہے جیسے حاصل کرنے کے لیے کھوج لگانا پڑتی ہے، اس کے لیے جستجو اور یکسوئی درکار ہے. اب اگر کوئی خزانے کا طلبگار ہی نہ ہو تو کوئی بھی زبردستی اس کو خزانے تک نہیں لے جا سکتا اور اگر کوئی اس خزانے تک رسائی کا عزم کر چکا ہو تو اسے پھر کوئی روک نہیں سکتا. اس شخص کی مثال…

View original post 1,028 more words

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s